chief justie 5

60 برسوں میں آبادی پر قابو پانے کیلیے توجہ نہیں دی گئی، چیف جسٹس

اسلام آباد:
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ گزشتہ 60 برسوں میں بڑھتی ہوئی آبادی کنٹرول کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

بڑھتی ہوئی آبادی پر فوری توجہ کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ وسائل محدود اور ضرورت لامحدود ہیں، گزشتہ 60 سال میں بڑھتی ہوئی آبادی کنٹرول کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی، بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ہمارے وسائل مسلسل دباؤ کا شکار رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آبادی ایسے ہی بڑھتی رہی تو 30سال بعد پاکستان کی آبادی45کروڑ ہوگی، بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلیے سپریم کورٹ نے جو حصہ ڈالنا تھا وہ ڈال دیا ہے اب ہمیں آبادی پر قابو پانے کے لیے آگاہی پھیلانی ہے اور اس حوالے سے عملی کام کرنے کا وقت ہے کیونکہ پاکستان کی بقا کیلیےہم نے آبادی کو کنٹرول کرنا ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پانی زندگی ہے ہر سال 7 ارب گیلن پانی زمین سے نکالا جاتا ہے، 4 لیٹر پانی میں ایک لیٹر پانی قابل استعمال ہوتا ہے اور باقی تین چوتھائی حصہ ضائع کردیا جاتا ہے جب کہ گزشتہ 40 سالوں میں کوئی ڈیم نہیں بنایا گیا اس لیے آنے والے دنوں میں پانی کی کمی کے تباہ کن اثرات ہوں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم اور پارلیمنٹ کی معاونت بہت ضرورت ہے اب وقت آگیا ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کا بائیکاٹ کرنا چھوڑ دیا جائے، آج ملک میں بچہ ایک لاکھ سے زائد کا مقروض پیدا ہوتا ہے، ہم آنے والی نسلوں کو کچھ دے کر جانا چاہتے ہیں جب کہ وزیراعظم مدینہ کی ریاست قائم کرنے کی بات کرتے ہیں اس خواب اور تصور میں عدلیہ شانہ بشانہ ہےاور نیک نیتی سے وزیراعظم کے اس خواب کی تعبیر کو پانے کی کوشش کریں گے،عدلیہ کو وہ ٹولز دیے جائیں کہ وہ آج کے تقاضوں کو پورا کرسکے،عدلیہ اب اس بوجھ کو اٹھانے کی متحمل نہیں ہوسکتی کہ برسہابرس کیس چلتا رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں