parivz khattak 4

بوٹینکل گارڈن اراضی کیس میں پرویزخٹک طلب

پشاور۔
پشاورہائی کورٹ نے عدالتی حکم امتناع کے باوجوڈ بوٹینکل گارڈن نوشہرہ کی اراضی نجی یونیورسٹی کیلئے حوالے کرنے پرخیبرپختونخواکے سابق وزیراعلی اور وزیر دفاع پرویزخٹک کوتوہین عدالت کانوٹس جاری کرتے ہوئے تین ہفتوں میں جواب طلب کرلیاہے جبکہ پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ کسی کے وزیراعلی بن جانے کایہ مطلب نہیں کہ وہ قبضہ مافیابن جائے اورخودکو سب سے بالاسمجھنے لگیں عدالتی حکم امتناع کے باوجود بوٹینکل گارڈن نوشہرہ کی اراضی نجی یونیورسٹی کے حوالے کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے

عدالت عالیہ کے جسٹس قیصررشید اور جسٹس محمدایوب خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے پشاوریونیورسٹی ٹیچرزایسوسی ایشن کی جانب سے وسیم الدین خٹک ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائرتوہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ خیبرپختونخواکے ضلع نوشہرہ میں واقع بوٹینکل گارڈن کے لئے مختص600کنال اراضی ننانوے سالہ لیزپرپشاوریونیورسٹی کو دی گئی

تاہم گذشتہ دورحکومت میں ضلع نوشہرہ کی انتظامیہ نے مذکورہ اراضی کالیزمنسوخ کرکے یہ اراضی ائر یونیورسٹی کولیزپردی تاہم پشاورہائی کورٹ نے یونیورسٹی کی رٹ پرحکم امتناعی جاری کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نوشہرہ کو اراضی کاقبضہ نجی یونیورسٹی کے حوالے کرنے سے روک دیاتھااس کے باوجود آدھی اراضی کاقبضہ نجی یونیورسٹی کے حوالے کردیاگیاہے جو توہین عدالت کے زمرے میں آتاہے جس پرفاضل بنچ نے برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہ وزیراعلی بن جانے کایہ مطلب نہیں کہ وہ قبضہ مافیابن جائے سابق وزیراعلی پرویزخٹک نجی یونیورسٹی کے ساتھ اتنی ہمدردی رکھتے ہیں تو وہ اپنی ذاتی جائیداد سے اراضی نجی یونیورسٹی کو دے دیں فاضل بنچ نے بعدازاں وزیردفاع پرویزخٹک کو توہین عدالت کانوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کرلیاہے اور ان سے جواب مانگ لیاہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں