piras 7

پیرس میں جھڑپیں ‘ایمرجنسی لگانے پر غور

پیرس۔
فرانس کے وزیر داخلہ کرسٹوف کاسٹینر نے کہاہے کہ ملک میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ایمرجنسی نافذ کرنے کا امکان زیر غور ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کرسٹوف نے کہا کہ ہم ان تمام اقدامات پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں جن کے ذریعے سکیورٹی کی صورت حال کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔کرسٹوف کے مطابق پیرس میں پرتشدد کارروائیوں کے مرتکب افراد ہی اختلاف بھڑکانے اور ہنگامہ آرائی کے ذمے دار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تین ہزار کے قریب افراد کو پہچان لیا گیا ہے جنہوں نے پیرس میں گھوم پھر کر خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا۔ کرسٹوف کے مطابق پیرس اور نواحی علاقوں میں ہفتے کی شام پولیس اور سکیورٹی فورسز کے 4600 اہل کار تعینات کر دیے گئے۔فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایندھن پرٹیکسوں کی شرح میں اضافے اور صدر امانوئل ماکروں کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف جاری احتجاج کے تین ہفتے مکمل ہوچکے ہیں۔

اس سلسلے میں گزشتہ روز ہفتے کی شام مشتعل مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں اور انھوں نے شاہراہوں کے وسط میں رکاوٹیں کھڑی کر کے ٹائروں او ر دوسری اشیاء کو آگ لگا دی۔ پْر تشدد واقعات پر 200 سے زیادہ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق احتجاجی ریلیوں میں 75 ہزار افراد نے شرکت کی ، 17 نومبر سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات میں 2 افراد ہلاک اور 606 زخمی ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں